Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 34 · Chapter 333

Names

بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ: وَيْلَكَ

کسی کو ’’ویلك‘‘ کہنے کا حکم

4 hadiths in this chapter

776

Al-Adab Al-Mufrad #776

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: ((ارْكَبْهَا)) ، فَقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ((ارْكَبْهَا)) ، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ((ارْكَبْهَا)) ، قَالَ: فَإِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ((ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا ہے تو آپ نے فرمایا:’’اس پر سوار ہو جاؤ۔‘‘ اس نے کہا:یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا:’’سوار ہو جاؤ۔‘‘ اس نے کہا:یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’سوار ہو جاؤ۔‘‘ اس نے کہا:یہ قربانی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مریں، اس پر سوار ہو جا۔‘‘

777

Al-Adab Al-Mufrad #777

Sahih

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، حَدَّثَنِي الْمِسْوَرُ بْنُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَرَجُلٌ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَكَلْتُ خُبْزًا وَلَحْمًا، فَهَلْ أَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: وَيْحَكَ، أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت مسور بن رفاعہ قرظی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا:جب ایک آدمی نے ان سے پوچھا:میں نے روٹی گوشت کھایا ہے تو کیا اس سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا:تجھ پر افسوس کیا تو طیبات، یعنی پاکیزہ چیزیں کھانے سے بھی وضو کرے گا۔

778

Al-Adab Al-Mufrad #778

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعْرَانَةِ، وَالتِّبْرُ فِي حِجْرِ بِلَالٍ، وَهُوَ يَقْسِمُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: اعْدِلْ، فَإِنَّكَ لَا تَعْدِلُ، فَقَالَ: ((وَيْلَكَ، فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلُ؟)) قَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ - أَوْ: فِي أَصْحَابٍ لَهُ - يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ "، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ. قُلْتُ لِسُفْيَانَ: رَوَاهُ قُرَّةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَا أَحْفَظُهُ عَنْ عَمْرٍو، وَإِنَّمَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے روز جعرانہ مقام پر تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سونے کی ڈلیاں تھیں جنہیں آپ تقسیم فرما رہے تھے۔ چنانچہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا:عدل کیجیے، آپ عدل نہیں کر رہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تو برباد ہو اگر میں عدل نہیں کروں گا تو کون عدل کرے گا‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بلاشبہ یہ اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ ہوگا جو قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔‘‘پھر سفیان نے کہا کہ ابو الزبیر نے کہا میں نے جابر سے سنا۔ علی کہتے ہیں:میں نے سفیان سے کہا کہ قرہ جب بیان کرتے ہیں عمرو عن جابر بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:مجھے عمرو کی حدیث کا علم نہیں۔ ہمیں تو ابو زبیر نے جابر کے حوالے سے بیان کیا ہے۔

779

Al-Adab Al-Mufrad #779

Sahih

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرٍ - وَكَانَ اسْمُهُ زَحْمَ بْنَ مَعْبَدٍ، فَهَاجَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ((مَا اسْمُكَ؟)) قَالَ: زَحْمٌ، قَالَ: ((بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ)) - قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: ((لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرٌ كَثِيرٌ)) ثَلَاثًا، فَمَرَّ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: ((لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا)) ثَلَاثًا، فَحَانَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةٌ، فَرَأَى رَجُلًا يَمْشِي فِي الْقُبُورِ، وَعَلَيْهِ نَعْلَانِ، فَقَالَ: ((يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ، أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ)) ، فَنَظَرَ الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَرَمَى بِهِمَا

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت بشیر بن معبد سدوسی، جن کا نام زحم بن معبد تھا سے روایت ہے کہ وہ ہجرت کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا:’’تمہار نام کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا:زحم۔ آپ نے فرمایا:’’تیرا نام (آج کے بعد)بشیر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ مشرکین کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا:’’یقیناً ان لوگوں سے بہت زیادہ خیر چھوٹ گئی ہے۔‘‘ تین مرتبہ آپ نے یہ فرمایا۔ پھر آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا:’’انہوں نے یقیناً خیر کثیر پالی ہے۔‘‘ تین مرتبہ آپ نے فرمایا۔ پھر اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ قبرستان میں جوتے پہنے ہوئے چل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اے سبتیہ جوتے پہننے والے اپنے جوتے اُتار دو۔‘‘ چنانچہ اس آدمی نے دیکھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نظر آئے تو اس نے جوتے اتار کر پھینک دیے۔