Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 33 · Chapter 321

Sayings

بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: فُلَانٌ جَعْدٌ، أَسْوَدُ، أَوْ طَوِيلٌ، قَصِيرٌ، يُرِيدُ الصِّفَةَ وَلَا يُرِيدُ الْغِيبَةَ

اگر کوئی کہے کہ فلاں گھنگریالے بالوں والا کالا یا لمبا یا پست قد ہے اور اس کا مقصد تعارف کروانا ہو، غیبت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں

3 hadiths in this chapter

758

Al-Adab Al-Mufrad #758

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ كُلْثُومُ بْنُ الْحُصَيْنِ الْغِفَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ - يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فنُمْتُ لَيْلَةً بِالْأَخْضَرِ، فَصِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، فَأُلْقِيَ عَلَيْنَا النُّعَاسُ، فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَطَفِقْتُ أُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي بَعْضَ اللَّيْلِ، فَزَاحَمَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِجْلُهُ فِي الْغَرْزِ، فَأَصَبْتُ رِجْلَهُ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ: ((حَسِّ)) ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((سِرْ)) . فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُنِي عَنْ مَنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُخْبِرُهُ، فَقَالَ - وَهُوَ يَسْأَلُنِي: ((مَا فَعَلَ النَّفْرُ الْحُمُرُ الطِّوَالُ الثِّطَاطُ؟)) قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ بِتَخَلُّفِهِمْ، قَالَ: ((فَمَا فَعَلَ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرَخٍ؟)) فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ، فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُولَئِكَ مِنْ أَسْلَمَ، قَالَ: ((فَمَا يَمْنَعُ أَحَدَ أُولَئِكَ، حِينَ يَتَخَلَّفُ، أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَءًا نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَإِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارُ، وَغِفَارٌ وَأَسْلَمُ))

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابو رہم کلثوم بن حصن غفاری رضی اللہ عنہ کے بھتیجے نے بتایا کہ اس نے ابو رہم سے سنا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی۔ وہ فرماتے تھے:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک تھا۔ دوران سفر ایک رات میں اخضر مقام پر ٹھہرا۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوگیا تو ہم پر اونگھ تاری ہوگئی۔ میں اپنے آپ کو بیدار کرتا رہا اور میری سواری آپ کی سواری کے قریب چلتی رہی۔ مجھے یہ بات پریشان کرتی رہی کہ کہیں آپ کا پاؤں مبارک جو رکاب میں تھا میری سواری سے ٹکرا نہ جائے۔ میں مسلسل سواری کو پیچھے کرتا رہا یہاں تک کہ رات کے ایک حصے میں مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا تو میری سواری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے ٹکرا گئی۔ آپ کا قدم مبارک رکاب میں تھا آپ کے قدم کو سواری کا کچھ حصہ لگ گیا۔ میری آنکھ اس وقت کھلی جب آپ نے ’’حس‘‘ فرمایا۔ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب فرمائیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’چلتے رہو۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بنو غفار کے ان لوگوں کے بارے میں پوچھنے لگے جو اس (غزوہ تبوک)سے پیچھے رہ گئے تھے۔ آپ نے مجھ سے دریافت کرتے ہوئے فرمایا:’’اس سرخ، لمبے اور کھودے لشکر کا کیا بنا، وہ کیوں نہیں آئے۔‘‘ وہ کہتے ہیں:میں نے آپ کو ان کے پیچھے رہ جانے کے بارے میں بتایا۔ آپ نے فرمایا:’’وہ کالے، گھنگریالے بالوں والے اور چھوٹے قد والے جن کے جانور مقام شبکہ شدخ میں ہیں وہ کیوں نہیں آئے۔ میں نے بنو غفار میں سے یہ لوگ یاد کرنے چاہے تو اس صفت کے لوگ میں یاد نہ کر پایا۔ پھر میری سمجھ میں آیا کہ یہ لوگ قبیلہ بنی اسلم میں سے ہیں۔ میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! یہ لوگ قبیلہ اسلم سے ہیں۔ آپ نے فرمایا:’’ان لوگوں کو اس چیز سے کس بات نے منع کیا ہے کہ وہ اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ پر کسی چاک و چوبند آدمی کو اللہ کی راہ میں سوار کرا دیں کیوں مجھے یہ بات بہت گراں گزرتی ہے کہ میرے تعلق داروں میں سے قریش کے مہاجرین، انصار اور بنو غفار اور اسلم جہاد سے پیچھے رہیں۔

759

Al-Adab Al-Mufrad #759

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ)) ، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آپ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا:’’یہ شخص اپنے قبیلے کا برا آدمی ہے۔‘‘ جب وہ آیا تو آپ اسے خندہ پیشانی سے ملے تو میں نے آپ سے اس کی بابت استفسار کیا تو آپ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ فحش گو اور بد زبان کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

760

Al-Adab Al-Mufrad #760

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ لَيْلَةَ جَمْعٍ - وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً - فَأَذِنَ لَهَا

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مزدلفہ کی رات سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے (منی کی طرف)جلدی جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی کیونکہ وہ بھاری بھرکم اور سست خاتون تھیں۔