Al-Adab Al-Mufrad #747
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ. وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ))
اردو ترجمہ · Urdu
ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کرے یا چپ رہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی ایک دن رات پر تکلف میزبانی کرے اور مہمانی تین دن ہے جو اس کے بعد کھلائے گا وہ صدقہ ہے۔ اور مہمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ میزان کے ہاں اقامت ہی اختیار کرلے کہ وہ تنگ آجائے۔‘‘