Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 31 · Chapter 301

Supplication

بَابُ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْعَافِيَةَ

اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

728

Al-Adab Al-Mufrad #728

Sahih

حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوَّلَ مَقَامِي هَذَا - ثُمَّ بَكَى أَبُو بَكْرٍ - ثُمَّ قَالَ: ((عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ، وَسَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرٌ مِنَ الْمُعَافَاةِ، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا))

اردو ترجمہ · Urdu

اوسط بن اسماعیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے پہلے سال اس جگہ پر کھڑے ہوئے جس جگہ میں کھڑا ہوں، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے، پھر فرمایا:’’سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ وہ نیکی کے ساتھ ہے اور وہ دونوں (سچائی اور نیکی)جنت میں لے جانے والی ہیں۔ اور جھوٹ سے بچو کیونکہ وہ فجور کے ساتھ ہے اور یہ دونوں آگ میں لے جانے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ آپس میں قطع تعلق نہ کرو۔ ایک دوسرے سے پشت نہ پھیرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد وبغض رکھو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘

729

Al-Adab Al-Mufrad #729

Zaeef

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ، قَالَ: ((هَلْ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟)) قَالَ: ((تَمَامُ النِّعْمَةِ دُخُولُ الْجَنَّةِ، وَالْفَوْزُ مِنَ النَّارِ)) . ثُمَّ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، قَالَ: ((قَدْ سَأَلْتَ رَبَّكَ الْبَلَاءَ، فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ)) . وَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، قَالَ: ((سَلْ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ دعا کر رہا تھا:’’اے اللہ میں تجھ سے پوری نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:تم جانتے ہو پوری نعمت کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا:پوری نعمت یہ ہے کہ بندہ جنت میں داخل ہو جائے اور دوزخ سے بچ جائے۔ پھر آپ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا:اے اللہ میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا:تم نے اپنے رب سے مصیبت کا سوال کیا ہے، اس کے بجائے عافیت کا سوال کرو۔‘‘ ایک اور شخص کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا:اے بزرگی و اکرام والے۔ آپ نے اس سے فرمایا:اللہ سے کچھ مانگو۔

730

Al-Adab Al-Mufrad #730

Sahih

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُ اللَّهَ بِهِ، فَقَالَ: ((يَا عَبَّاسُ، سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ)) ، ثُمَّ مَكَثْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُ اللَّهَ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: ((يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ، سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کروں۔ آپ نے فرمایا:’’اے عباس! اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو۔‘‘ کچھ عرصہ ٹھہرنے کے بعد میں پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیں جس کے ذریعے سے میں مانگوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرو۔‘‘