Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 31 · Chapter 295

Supplication

بَابُ مَا يُدَّخَرُ لِلدَّاعِي مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ

دعا کرنے والے کے لیے اجر و ثواب کے ذخیرہ ہونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

714

Al-Adab Al-Mufrad #714

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو، لَيْسَ بِإِثْمٍ وَلَا بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَدْفَعَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا "، قَالَ: إِذًا نُكْثِرُ، قَالَ: ((اللَّهُ أَكْثَرُ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’جو مسلمان بھی دعا کرتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ اور قطع رحمی کی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک ضرور عطا فرماتا ہے:یا تو اس کی دعا سوال کے مطابق اسی وقت قبول ہو جاتی ہے یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کر دیتا ہے یا اس جیسی کوئی تکلیف جو پہنچنے والی ہوتی ہے، اسے دور کر دیتا ہے۔‘‘ راوی نے کہا:تب تو ہم بہت زیادہ دعا کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ اس سے بھی زیادہ دینے والا ہے۔‘‘

715

Al-Adab Al-Mufrad #715

Sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ شَيْبَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَنْصُبُ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ يَسْأَلُهُ مَسْأَلَةً، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا، إِمَّا عَجَّلَهَا لَهُ فِي الدُّنْيَا، وَإِمَّا ذَخَرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مَا لَمْ يَعْجَلْ)) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَجَلَتُهُ؟ قَالَ: " يَقُولُ: دَعَوْتُ وَدَعَوْتُ، وَلَا أُرَاهُ يُسْتَجَابُ لِي "

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو مومن اللہ کی طرف متوجہ ہو کر کوئی سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے۔ یا تو دنیا ہی میں سوال کے مطابق عطا فرماتا ہے یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کر دیتا ہے جب تک بندہ جلد بازی نہ کرے۔ صحابہ نے عرض کیا:اللہ کے رسول! جلد بازی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’وہ کہتا ہے:میں نے دعا کی، پھر دعا کی لیکن دعا قبول ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔‘‘