Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 31 · Chapter 273

Supplication

بَابُ مَنْ دَعَا فِي غَيْرِهِ مِنَ الدُّعَاءِ

دوسروں کے لیے دعا کرنے کا بیان

1 hadith in this chapter

609

Al-Adab Al-Mufrad #609

Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ، يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى)) ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، ثُمَّ جَاءَنِي الدَّاعِي لَأَجَبْتُ، إِذْ جَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ﴾ [يوسف: 50] ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ، إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ: ﴿لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ [هود: 80] ، فَمَا بَعَثَ اللَّهُ بَعْدَهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ " قَالَ مُحَمَّدٌ: الثَّرْوَةُ: الْكَثْرَةُ وَالْمَنَعَةُ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کریم بن کریم بن کریم بن کریم تو یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ ہیں۔‘‘ راوی کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر میں قید میں اتنی مدت رہتا جتنی دیر یوسف علیہ السلام رہے، پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں اس کی بات مان لیتا، جب قاصد ان کے پاس آیا اور کہا:’’ارجع الی ربک.اپنے بادشاہ کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا بنا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ رحمت کرے لوط علیہ السلام پر جب وہ مضبوط جماعت کی پناہ لینے پر مجبور ہوئے جس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا:’’اگر مجھے مقابلے کی قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط جماعت کی طرف پناہ لیتا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کا کنبہ قبیلہ طاقت ور نہ ہو۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ثروۃ کا مطلب جو تعداد اور طاقت و دفاع میں سب سے بڑھ کر ہو۔