Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 30 · Chapter 271

General behavior

بَابُ الْحَيَاءِ

حیا کا بیان

7 hadiths in this chapter

601

Al-Adab Al-Mufrad #601

Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسَ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ: إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ "

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو مسعود عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’پہلے نبیوں کی باتوں میں سے جو کچھ لوگوں کے پاس پہنچا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب تم میں شرم و حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔‘‘

602

Al-Adab Al-Mufrad #602

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ، أَوْ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ، شُعْبَةً، أَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ایمان کی ساٹھ یا ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے کم، تکلیف دہ چیز راستے سے ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک اہم شاخ ہے۔‘‘

603

Al-Adab Al-Mufrad #603

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَقَالَ غُنْدَرٌ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: مَوْلَى أَنَسٍ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکی سے زیادہ حیا دار تھے اور جب آپ کسی چیز کو ناپسند کرتے تو ہم اس کے اثرات آپ کے چہرے پر پہچان لیتے۔ ایک دوسری سند سے بھی سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔

604

Al-Adab Al-Mufrad #604

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ، حَدَّثَاهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِ عَائِشَةَ لَابِسًا مِرْطَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ. ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ. قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ: ((اجْمَعِي إِلَيْكِ ثِيَابَكِ)) ، قَالَ: فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ، وَأَنَا عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عثمان اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی جبکہ آپ سیدہ عائشہ کی چادر اوڑھے ان کے بستر پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے اسی حالت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی۔ وہ جس کام کی غرض سے آئے تھے اپنی ضرورت پوری کرکے چلے گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے اسی حالت میں انہیں اجازت دے دی، چنانچہ وہ بھی اپنی حاجت پوری کرکے چلے گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:پھر میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:’’اپنے کپڑے درست کرلو۔‘‘ وہ فرماتے ہیں:مجھے آپ سے جو کام تھا وہ میں نے پورا کیا، پھر واپس آگیا۔ وہ کہتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:اللہ کے رسول! آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے جو اہتمام کیا ہے ایسا اہتمام سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے لیے نہیں کیا؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بے شک عثمان نہایت شرمیلے اور بہت حیا دار ہیں اور مجھے خدشہ ہوا کہ اگر میں نے اسی حالت میں انہیں اندر آنے کی اجازت دی تو وہ اپنی بات صحیح طرح سے مجھ سے بیان نہیں کرسکیں گے۔‘‘

605

Al-Adab Al-Mufrad #605

Sahih

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’حیا جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور بے حیائی جس چیز میں بھی ہو اسے بدنما بنا دیتی ہے۔‘‘

606

Al-Adab Al-Mufrad #606

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: ((دَعْهُ، فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ)) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُعَاتِبُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، كَأَنَّهُ يَقُولُ: أَضَرَّ بِكَ، فَقَالَ: ((دَعْهُ، فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں وعظ و نصیحت کر رہا تھا کہ زیادہ حیا نہ کیا کر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اسے حیا دار رہنے دو کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ ایک دوسری سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو (زیادہ)حیا کے بارے ڈانٹ ڈپٹ کر رہا تھا یہاں تک کہ وہ کہہ رہا تھا کہ میں تم نقصان اٹھاؤ گے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:’’اسے اس کے حال پر چھوڑ دو کیونکہ حیا ایمان میں سے ہے۔‘‘

607

Al-Adab Al-Mufrad #607

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءٍ وَسُلَيْمَانَ ابْنَيْ يَسَارٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي، كَاشِفًا عَنْ فَخِذِهِ أَوْ سَاقَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَذِنَ لَهُ كَذَلِكَ، فَتَحَدَّثَ. ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَذِنَ لَهُ كَذَلِكَ، ثُمَّ تَحَدَّثَ. ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ - قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَقُولُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ - فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهَشَّ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهَشَّ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ؟ قَالَ: ((أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟))

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ کی ران یا پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے اسی حالت میں اجازت دے دی۔ وہ آئے اور باتیں کرتے رہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے اسی حالت میں اجازت دے دی، پھر وہ بھی باتیں کرتے رہے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے (محمد بن حرملہ نے کہا:میں نہیں کہتا کہ وہ ایک دن میں آئے)چنانچہ وہ بھی داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے۔ جب وہ چلے گئے تو میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! ابوبکر داخل ہوئے تو آپ نے اہتمام نہیں کیا اور نہ زیادہ توجہ دی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو بھی آپ نے زیادہ گرم جوشی اور اہتمام نہیں فرمایا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے؟ آپ نے فرمایا:’’کیا میں ایسے شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟‘‘