Al-Adab Al-Mufrad #536
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ: رَمِدَتْ عَيْنِي، فَعَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ((يَا زَيْدُ، لَوْ أَنَّ عَيْنَكَ لَمَّا بِهَا كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ؟)) قَالَ: كُنْتُ أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ، قَالَ: ((لَوْ أَنَّ عَيْنَكَ لَمَّا بِهَا، ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ كَانَ ثَوَابُكَ الْجَنَّةَ))
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے آشوب چشم کی تکلیف ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، پھر فرمایا:’’اے زید اگر تمہاری آنکھوں میں تکلیف رہ جاتی تو تم کیا کرتے؟‘‘ میں نے عرض کیا:میں صبر کرتا اور ثواب کی امید رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر تیری آنکھیں اسی طرح دکھتی رہتیں اور پھر تم صبر کرتے اور ثواب کی امید رکھتے تو تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملتی۔‘‘