Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 29 · Chapter 227

Visiting the sick

بَابُ الْعِيَادَةِ جَوْفَ اللَّيْلِ

رات کے وقت مریض کی عیادت کرنا

4 hadiths in this chapter

500

Al-Adab Al-Mufrad #500

Zaeef

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ حُذَيْفَةُ سَمِعَ بِذَلِكَ رَهْطُهُ وَالْأَنْصَارُ، فَأَتَوْهُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ الصُّبْحِ، قَالَ: أَيُّ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ قُلْنَا: جَوْفُ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ الصُّبْحِ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ صَبَاحِ النَّارِ، قَالَ: جِئْتُمْ بِمَا أُكَفَّنُ بِهِ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: لَا تُغَالُوا بِالْأَكْفَانِ، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُنْ لِي عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ بُدِّلْتُ بِهِ خَيْرًا مِنْهُ، وَإِنْ كَانَتِ الْأُخْرَى سُلِبْتُ سَلْبًا سَرِيعًا " قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: أَتَيْنَاهُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت خالد بن ربیع کہتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو اس کی خبر ان کے احباب اور انصار کو پہنچی تو وہ آدھی رات یا سحری کے قریب ان کی تیمار داری کے لیے آئے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:یہ کون سا وقت ہے؟ ہم نے کہا:آدھی رات یا سحری کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا:میں ایسی صبح سے اللہ کی پناہ مانگتا جس میں دوزخ میں داخلہ ہو۔ پھر فرمایا:تم میرے لیے کفن لائے ہو؟ ہم نے کہا:ہاں! انہوں نے فرمایا:میرا کفن زیادہ قیمتی کپڑے کا نہ بنانا کیونکہ اگر میرے لیے اللہ کے ہاں خیر ہے تو اس سے بہتر بدل دیا جائے گا اور اگر کوئی دوسرا معاملہ ہوا تو یہ بھی بہت جلد مجھ سے چھین لیا جائے گا۔ ابن ادریس کی روایت میں ہے کہ ہم رات کے کسی حصے میں ان کے پاس آئے۔

501

Al-Adab Al-Mufrad #501

Sahih

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا اشْتَكَى الْمُؤْمِنُ أَخْلَصَهُ اللَّهُ كَمَا يُخَلِّصُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب مومن بیمار ہوتا ہے کہ تو اللہ تعالیٰ اسے گناہ سے اس طرح صاف کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کا میل کچیل صاف کر دیتی ہے۔‘‘

502

Al-Adab Al-Mufrad #502

Sahih

حَدَّثَنَا بِشْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ - وَجَعٍ أَوْ مَرَضٍ - إِلَّا كَانَ كَفَّارَةَ ذُنُوبِهِ، حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا، أَوِ النَّكْبَةُ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مسلمان کو جو بھی مصیبت درد یا مرض کی صورت کی میں پہنچتی ہے وہ ضرور اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے یہاں تک کہ کوئی کانٹا یا معمولی سی چوٹ لگ جائے تو اس سے بھی گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘

503

Al-Adab Al-Mufrad #503

Sahih

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا قَالَ: اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ شَكْوَى شَدِيدَةً، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتْرُكُ مَالًا، وَإِنِّي لَمْ أَتْرُكْ إِلَّا ابْنَةً وَاحِدَةً، أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي، وَأَتْرُكُ الثُّلُثَ؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: أُوصِي النِّصْفَ، وَأَتْرُكُ لَهَا النِّصْفَ؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: فَأَوْصِي بِالثُّلُثِ، وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: ((الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ)) ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهِي وَبَطْنِي، ثُمَّ قَالَ: ((اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتِمَّ لَهُ هِجْرَتَهُ)) ، فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَرْدَ يَدِهِ عَلَى كَبِدِي فِيمَا يَخَالُ إِلَيَّ حَتَّى السَّاعَةِ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مکہ مکرمہ میں شدید بیمار ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری تیمار داری کے لیے تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! میں کافي زیادہ مال چھوڑ کر جا رہا ہوں جبکہ میری وارث صرف ایک بیٹی ہے۔ کیا میں دو تہائی مال کی اللہ کی راہ میں وصیت کر دوں اور ایک تہائی اس کے لیے چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا:’’نہیں۔‘‘ اس نے کہا:آدھے مال کی وصیت کردوں اور آدھا بیٹی کے لیے چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا:’’نہیں‘‘ میں نے عرض کیا:تیسرے حصے کی وصیت کردوں اور دو حصے اس کے لیے چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا:’’تیسرے حصے کی وصیت کرلو، ویسے تیسرا بھی زیادہ ہے۔‘‘ پھر آپ نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پر رکھا۔ چہرے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا، پھر فرمایا:اے اللہ سعد کو شفا عطا فرما اور اس کی ہجرت پوری فرما۔‘‘ میں اپنے جگر میں آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک مسلسل محسوس کرتا رہا ہوں حتی کہ ابھی تک کر رہا ہوں۔