Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 28 · Chapter 225

Injustice

بَابُ الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ

ظلم آخرت میں تاریکیاں ہوں گی

8 hadiths in this chapter

487

Al-Adab Al-Mufrad #487

Sahih

حَدَّثَنَا بِشْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَحَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ظلم سے بچو کیونکہ ظلم روز قیامت تاریکیاں اور اندھیرے بن کر سامنے آئے گا۔ اور بخل سے بچو کیونکہ اسی بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا اور انہیں اس بات پر ابھارا کہ انہوں نے آپس میں خون خرابا کیا اور حرام چیزوں کو حلال کیا۔

488

Al-Adab Al-Mufrad #488

Zaeef

حَدَّثَنَا حَاتِمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي مَسْخٌ، وَقَذْفٌ، وَخَسْفٌ، وَيُبْدَأُ بِأَهْلِ الْمَظَالِمِ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میری امت کے آخری زمانہ میں صورتیں بگڑنے، پتھر برسنے اور دھنسائے جانے کے واقعات رونما ہوں گے اور اس کا آغاز ظالموں سے ہوگا۔‘‘

489

Al-Adab Al-Mufrad #489

Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ظلم قیامت کے دن اندھیرے بن کر سامنے آئے گا۔‘‘

490

Al-Adab Al-Mufrad #490

Sahih

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَإِسْحَاقُ قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيَتَقَاصُّونَ مَظَالِمَ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا، أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَأَحَدُهُمْ بِمَنْزِلِهِ أَدَلُّ مِنْهُ فِي الدُّنْيَا))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب مومن آگ سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیا جائے گا۔ پھر وہ دنیا میں ایک دوسرے پر کیے گئے ظلموں کا بدلہ دیں گے یہاں تک کہ جب وہ صاف ستھرے ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے وہ اپنے جنت والے گھر کو دنیا والے گھر سے زیادہ اچھے طریقے سے پہچانتے ہوں گے۔‘‘

491

Al-Adab Al-Mufrad #491

Sahih

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ، وَدَعَاهُمْ فَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے روز تاریکیاں بن کر سامنے آئے گا۔ اور بے حیائی سے بچو بلاشبہ اللہ تعالیٰ فحش گو اور فحش گوئی کو اختیار کرنے والے دونوں کو پسند نہیں فرماتا۔ اور بخل سے بچو کیونکہ اس بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو آمادہ کیا تو انہوں نے قطع رحمی کی اور انہیں حرام چیزوں کو حلال کرنے پر ابھارا۔‘‘

492

Al-Adab Al-Mufrad #492

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَحَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ظلم سے بچو کیونکہ ظلم روز قیامت اندھیرے بن کر آئے گا۔ اور بخل سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا اور انہیں اس بات پر ابھارا کہ انہوں نے آپس میں خون بہائے اور اپنی حرمتوں کو پامال کیا۔‘‘

493

Al-Adab Al-Mufrad #493

Hasan

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَقَوَّضَ إِلَيْهِمَا حِلَقُ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: لَا أَرَى هَؤُلَاءِ يَجْتَمِعُونَ إِلَيْنَا إِلَّا لِيَسْتَمِعُوا مِنَّا خَيْرًا، فَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فَأُصَدِّقَكَ أَنَا، وَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فَتُصَدِّقَنِي؟ فَقَالَ: حَدِّثْ يَا أَبَا عَائِشَةَ، قَالَ: هَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: الْعَيْنَانِ يَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ يَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ يَزْنِيَانِ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَجْمَعَ لِحَلَالٍ وَحَرَامٍ وَأَمْرٍ وَنَهْيٍ، مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى﴾ [النحل: 90] ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَسْرَعَ فَرَجًا مِنْ قَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾ [الطلاق: 2] ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَشَدَّ تَفْوِيضًا مِنْ قَوْلِهِ: ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا﴾ [الزمر: 53] مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو الضحیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں اکٹھے ہوئے تو مسجد میں لوگوں کے حلقے ان دونوں کے پاس جمع ہوگئے۔ مسروق رحمہ اللہ نے کہا:یہ لوگ ہم سے خیر اور بھلائی کی باتیں سننے کے لیے ہی جمع ہوئے ہیں، لہٰذا آپ عبداللہ بن مسعود سے بیان کریں میں آپ کی تصدیق کروں گا یا میں ان سے بیان کرتا ہوں اور آپ میری تصدیق کریں۔ ابن شکل رحمہ اللہ نے کہا:ابو عائشہ آپ بیان کریں! انہوں (مسروق)نے کہا:کیا آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا:آنکھیں زنا کرتی ہیں، ہاتھ زنا کرتے ہیں اور پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا غلط ثابت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا:ہاں میں نے ان سے واقعی اس طرح سنا ہے۔ مسروق رحمہ اللہ نے کہا:کیا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حلال حرام اور امر و نہی کے بارے میں قرآن مجید میں اس آیت ﴿إِنَّ اللّٰهَ یَأمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِیتَاءِ ذِی الْقُرْبَی﴾ سے زیادہ کوئی آیت جامع نہیں ہے؟ انہوں نے کہا:ہاں میں نے حضرت عبداللہ سے یہ سنا ہے۔ مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا:کیا آپ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن میں کوئی آیت:﴿وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾ سے زیادہ بڑھ کر نہیں ہے جس پر عمل کرنے سے کشادگی کی راہ کھل جاتی ہو؟ شتیر رحمہ اللہ نے کہا:میں نے بھی واقعی ان سے اسی طرح سنا ہے۔ مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا:کیا آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قرآن میں کوئی آیت ﴿یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أسْرَفُوا عَلَی أنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا﴾ سے زیادہ بڑھ کر نہیں ہے۔ جو بندوں کو تفویض سکھاتی ہو تو حضرت شتیر بن شکل رحمہ اللہ نے فرمایا:ہاں میں نے حضرت عبداللہ سے یہ سنا ہے۔

494

Al-Adab Al-Mufrad #494

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ - أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ - قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: ((يَا عِبَادِي، إِنِّي قَدْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ مُحَرَّمًا بَيْنَكُمْ فَلَا تَظَالَمُوا. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمُ الَّذِينَ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ، وَلَا أُبَالِي، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مِنْ كَسَوْتُهُ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْكُمْ، لَمْ يَزِدْ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا، وَلَوْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ، لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا، وَلَوِ اجْتَمَعُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَا سَأَلَ، لَمْ يَنْقُصْ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا، إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْبَحْرُ أَنْ يُغْمَسَ فِيهِ الْخَيْطُ غَمْسَةً وَاحِدَةً. يَا عِبَادِي، إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أَجْعَلُهَا عَلَيْكُمْ، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومُ إِلَّا نَفْسَهُ)) كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَى عَلَى رُكْبَتَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تبارک و تعالیٰ سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اے میرے بندو! بلاشبہ میں نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام ٹھہرایا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کیا ہے، لہٰذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں گناہوں کو معاف کرتا ہوں اور مجھے کوئی پروا نہیں اس لیے مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو مگر جسے میں کھلاؤں اس لیے مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو مگر جسے میں پہناؤں، لہٰذا مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور بعد والے انسان اور جن سب اس شخص کی طرح ہو جائیں جو تم میں سے زیادہ متقی ہے تو یہ میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرے گی اور اگر وہ سب سے برے آدمی کی طرح ہو جائیں تو یہ بات میری سلطنت میں اتنی ہی کمی کرے گی جتنی کمی سمندر میں دھاگا ایک دفعہ ڈبو کر نکالنے سے ہوگی۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے (شمار کرکے)رکھ رہا ہوں، لہٰذا جس کے اعمال اچھے ہوں اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور جس کے اعمال اس کے علاوہ ہوں اسے اپنے آپ کو ملامت کرنا چاہیے۔‘‘ ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تو (اس کی تعظیم کے پیش نظر)گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے۔