Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 26 · Chapter 221

Compassion

بَابُ الْخُرْقِ

اکھڑپن کی مذمت

3 hadiths in this chapter

479

Al-Adab Al-Mufrad #479

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: كُنْتُ عَلَى بَعِيرٍ فِيهِ صُعُوبَةٌ، فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک ضدی اونٹ پر سوار تھی تو میں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نرمی کرو، نرمی جس چیز میں بھی ہو اس کو خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے بدنما بنا دیتی ہے۔‘‘

480

Al-Adab Al-Mufrad #480

Zaeef

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ: جَابِرٌ أَوْ جُوَيْبِرٌ: طَلَبْتُ حَاجَةً إِلَى عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ لَيْلًا، فَغَدَوْتُ عَلَيْهِ، وَقَدْ أُعْطِيتُ فِطْنَةً وَلِسَانًا - أَوْ قَالَ: مِنْطَقًا - فَأَخَذْتُ فِي الدُّنْيَا فَصَغَّرْتُهَا، فَتَرَكْتُهَا لَا تَسْوَى شَيْئًا، وَإِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ أَبْيَضُ الشَّعْرِ أَبْيَضُ الثِّيَابِ، فَقَالَ لَمَّا فَرَغْتُ: كُلُّ قَوْلِكَ كَانَ مُقَارِبًا، إِلَّا وَقُوعَكَ فِي الدُّنْيَا، وَهَلْ تَدْرِي مَا الدُّنْيَا؟ إِنَّ الدُّنْيَا فِيهَا بَلَاغُنَا - أَوْ قَالَ: زَادُنَا - إِلَى الْآخِرَةِ، وَفِيهَا أَعْمَالُنَا الَّتِي نُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ، قَالَ: فَأَخَذَ فِي الدُّنْيَا رَجُلٌ هُوَ أَعْلَمُ بِهَا مِنِّي، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي إِلَى جَنْبِكَ؟ قَالَ: سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ

اردو ترجمہ · Urdu

ابو نضرہ سے روایت ہے کہ ہمارے قبیلے کا ایک آدمی تھا جسے جابر یا جویبر کہا جاتا تھا۔ اس نے بتایا کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک ضرورت کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں رات کے وقت مدینہ پہنچا اور صبح ہوئی تو ان کے پاس گیا۔ میں ذہین آدمی تھا اور بولنے کا سلیقہ بھی تھا۔ میں نے دنیا کی تحقیر اور برائی بیان کرنا شروع کی اور یہ ثابت کر دیا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کے پہلو میں ایک سفید ریش سفید پوشاک پہنے موجود تھا۔ جب میں بات کرکے فارغ ہوا تو اس نے کہا:تیری ساری باتیں ٹھیک ہیں، البتہ دنیا کی مذمت والی بات محل نظر ہے۔ تمہیں معلوم ہے دنیا کیا ہے؟ دنیا ہی میں آخرت تک پہنچنے کا سامان ہے۔ اسی میں ہمارے وہ اعمال ہیں جن کا آخرت میں بدلہ ملے گا۔ مجھ سے دنیا کا زیادہ علم رکھنے والے صاحب نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو میں نے عرض کیا:امیر المومنین یہ کون ہیں جو آپ کے پہلو میں تشریف فرما ہیں؟ انہوں نے کہا:مسلمانوں کے سردار ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔

481

Al-Adab Al-Mufrad #481

Hasan

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا قِنَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((الْأَشَرَةُ شَرٌّ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’شیخی بگھارنا نہایت برا کام ہے۔‘‘