Al-Adab Al-Mufrad #475
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَمْسِكْ حَتَّى أَخِيطَ نَقْبَتِي فَأَمْسَكْتُ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ خَرَجْتُ فَأَخْبَرْتُهُمْ لَعَدُّوهُ مِنْكِ بُخْلًا، قَالَتْ: أَبْصِرْ شَأْنَكَ، إِنَّهُ لَا جَدِيدَ لِمَنْ لَا يَلْبَسُ الْخَلَقَ
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت کثیر بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا:ذرا ٹھہرو میں اپنا پائجامہ سی لوں۔ کثیر کہتے ہیں:میں ٹھہر گیا اور کہا:ام المومنین! اگر میں باہر جاکر بتاؤں کہ آپ پرانا کپڑا سی رہی ہیں تو لوگ اسے آپ کی کنجوسی میں شمار کریں گے۔ انہوں نے فرمایا:سمجھ کر بات کرو، بات یہ ہے کہ جو پرانا کپڑا نہ پہنے اس کا نئے کپڑے میں کوئی حق نہیں۔