Al-Adab Al-Mufrad #400
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حُدِّثَتْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ - أَوْ عَطَاءٍ - أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ: وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَهُوَ قَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَهُوَ لِلَّهِ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِالْمُهَاجِرِينَ حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا إِيَّاهُ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ، لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا أَبَدًا، وَلَا أُحَنِّثُ نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا. فَلَمَّا طَالَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ إِلَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ عَلَيْهِ بِأَرْدِيَتِهِمَا، حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَنَدْخُلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلُوا، قَالَا: كُلُّنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، ادْخُلُوا كُلُّكُمْ. وَلَا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي الْحِجَابِ، وَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا يَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ إِلَّا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ: قَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَأَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ. قَالَ: فَلَمَّا أَكْثَرُوا التَّذْكِيرَ وَالتَّحْرِيجَ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ وَتَبْكِي وَتَقُولُ: إِنِّي قَدْ نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، ثُمَّ أَعْتَقَتْ بِنَذْرِهَا أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ تَذْكُرُ بَعْدَ مَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً فَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اخیافي بھتیجے عوف بن حارث بن طفیل سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا نے ان کی خرید و فروخت یا عطیے کے بارے میں کہا ہے:اللہ کی قسم! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس سے باز آجائیں ورنہ میں ان پر پابندی عائد کر دوں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:کیا اس نے یہ بات کی ہے؟ لوگوں نے کہا:ہاں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:میں اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ ابن زبیر سے کبھی کلام نہیں کروں گی۔ جب ناراضگی کا سلسلہ طویل ہوگیا تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے مہاجرین سے سفارش کرائی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:اللہ کی قسم! میں اس کے بارے کبھی کسی کی سفارش قبول نہیں کروں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ مزید کچھ دن گزرنے کے بعد ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بنو زہرہ کے دو افراد مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث سے کہا:میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم کسی طریقے سے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ مجھ سے قطع تعلق کی نذر مانیں۔ چنانچہ مسور اور عبدالرحمن ابن زبیر کو اپنی چادروں میں چھپائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے آئے اور اجازت طلب کی اور کہا:آپ پر سلامتی اور اللہ کی طرف سے رحمت وبرکت ہو! کیا ہم اندر آسکتے ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے کہا:ام المومنین! سب آجائیں؟ فرمایا:ہاں، سب آجاؤ اور انہیں پتہ نہ چلا کہ ان کے ساتھ ابن زبیر بھی ہیں۔ جب وہ اندر آئے تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما حجاب میں چلے گئے اور حضرت عائشہ کے گلے لگ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے۔ ادھر پردے سے باہر مسور اور عبدالرحمن بھی اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ صلح کرلیں مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابن زبیر سے کوئی بات نہ کی اور نہ ان کی معذرت ہی قبول کی۔ وہ دونوں کہنے لگے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع تعلقی سے منع کیا ہے جیسا کہ آپ جانتی ہیں کہ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سیدہ عائشہ کو بہت زیادہ نصیحت کی اور اسلام کی اس بارے میں سختی کا بتایا تو وہ ان دونوں کو بتاتے ہوئے رو پڑیں اور فرمایا:بے شک میں نے (بات نہ کرنے کی)نذر مان رکھی ہے اور نذر کا معاملہ بڑا سخت ہے۔ وہ دونوں مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے ابن زبیر سے بات کی اور اپنی نذر (کے کفارے)میں چالیس غلام آزاد کیے۔ وہ اس کے بعد جب بھی اپنی نذر کا ذکر کرتیں تو اس قدر روتیں کہ آنسوؤں سے ان کا دو پٹہ تر ہو جاتا۔