Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 21 · Chapter 182

Social behaviour

بَابُ الصَّبْرِ عَلَى الْأَذَى

تکلیف دہی پر صبر کرنا

2 hadiths in this chapter

392

Al-Adab Al-Mufrad #392

Sahih

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ أَحَدٌ - أَوْ لَيْسَ شَيْءٌ - أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّهُمْ لَيَدَّعُونَ لَهُ وَلَدًا، وَإِنَّهُ لَيُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی شخص تکلیف دہ بات سن کر اللہ عزوجل سے زیادہ صبر کرنے والا نہیں ہے۔ بلاشبہ وہ (لوگ)اس کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ اس کے باوجود انہیں عافیت دیتا ہے اور رزق عطا کرتا ہے۔

393

Al-Adab Al-Mufrad #393

Sahih

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقًا يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً، كَبَعْضِ مَا كَانَ يَقْسِمُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَاللَّهِ، إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قُلْتُ أَنَا: لَأَقُولَنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ، وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ، فَسَارَرْتُهُ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، وَغَضِبَ، حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَخْبَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَ: ((قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ حنین کے موقع پر)مال تقسیم کیا جس طرح پہلے بھی کرتے تھے (تو اس میں آپ نے نو مسلموں کو ترجیح دی)ایک انصاری شخص نے کہا:اللہ کی قسم! اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہیں تھی۔ میں نے کہا:میں یہ بات ضرور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤں گا، چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سرگوشی کے طور پر آپ کو بتایا۔ آپ اس وقت صحابہ کرام میں تشریف فرما تھے۔ آپ پر یہ بات بہت گراں گزری اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ شدید غضب ناک ہوئے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ میں آپ کو نہ ہی بتاتا (تو بہتر تھا)پھر آپ نے فرمایا:’’یقیناً موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت دی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔‘‘