Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 2 · Chapter 30

Book on ties of kinship

بَابُ بِرِّ الْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ

حسب مراتب قرابت داروں سے حسن سلوک کرنا

3 hadiths in this chapter

60

Al-Adab Al-Mufrad #60

Sahih

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ، ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ، ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ، ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں تاکیدی حکم فرماتا ہے، پھر تمہیں تمہاری ماؤں سے حسن سلوک کا تاکیدی حکم فرماتا ہے، پھر تمہیں تمہارے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کا تاکیدی حکم فرماتا ہے، پھر تمہیں تاکیدی حکم فرماتا ہے کہ رشتہ داروں کے حسب مراتب ان سے حسن سلوک کرو۔‘‘

61

Al-Adab Al-Mufrad #61

Zaeef

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْخَزْرَجُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْخَطَّابِ السَّعْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: جَاءَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: أُحَرِّجُ عَلَى كُلِّ قَاطِعِ رَحِمٍ لَمَا قَامَ مِنْ عِنْدِنَا، فَلَمْ يَقُمْ أَحَدٌ حَتَّى قَالَ ثَلَاثًا، فَأَتَى فَتًى عَمَّةً لَهُ قَدْ صَرَمَهَا مُنْذُ سَنَتَيْنِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، قَالَتِ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَسَلْهُ: لِمَ قَالَ ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَشِيَّةَ كُلِّ خَمِيسٍ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَلَا يَقْبَلُ عَمَلَ قَاطِعِ رَحِمٍ))

اردو ترجمہ · Urdu

ابو ایوب، جن کا نام سلیمان ہے، سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعرات کی شام ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا:میں سختی سے کہتا ہوں کہ جو قطع رحمی کرنے والا ہے وہ یہاں سے اٹھ کر چلا جائے تو کوئی بھی نہ اٹھا حتی کہ انہوں نے تین بار یہ بات دہرائی، پھر ایک نوجوان (اٹھا)اور اپنی ایک پھوپھی کے پاس آیا جس سے اس نے دو سال سے قطع تعلقی کر رکھی تھی۔ وہ اس کے پاس آیا تو اس نے کہا:میرے بھتیجے! آپ کے آنے کا کیا سبب ہوا؟ اس نوجوان نے کہا:میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایسے ایسے کہتے ہوئے سنا ہے۔ اس (پھوپھی)نے کہا:جاؤ اور ان سے پوچھو کہ انہوں نے ایسے کیوں کہا ہے؟ (اس کے پوچھنے پر)انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’بنو آدم کے اعمال ہر شب جمعہ کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔‘‘

62

Al-Adab Al-Mufrad #62

Zaeef

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: مَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا إِلَّا آجَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِيهَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَالْأَقْرَبَ الْأَقْرَبَ، وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَنَاوِلْ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آدمی اپنی ذات پر اور اپنے اہل و عیال پر جو بھی خرچ کرے اور ثواب کی امید رکھتا ہو اللہ تعالیٰ اس کو اس میں ثواب عطا فرماتا ہے اور خرچ کی ابتداء ان سے کر جن کی کفالت تیرے ذمے ہے، پھر اگر اس سے بچ رہے تو عزیز و اقارب پر ان سے رشتوں کے مراتب کے اعتبار سے خرچ کرو اور اگر اس سے بھی زائد ہو تو دوسروں کو دے دو۔