Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 18 · Chapter 165

The elderly

بَابُ يَبْدَأُ الْكَبِيرُ بِالْكَلَامِ وَالسُّؤَالِ

بات کرتے اور سوال کرتے وقت پہلے بڑا بات کرے

1 hadith in this chapter

362

Al-Adab Al-Mufrad #362

Sahih

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُمَا حَدَثَا، أَوْ حَدَّثَاهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، أَتَيَا خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((كَبِّرِ الْكِبَرَ)) - قَالَ يَحْيَى: لِيَلِيَ الْكَلَامَ الْأَكْبَرُ - فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَحِقُّوا قَتِيلَكُمْ - أَوْ قَالَ: صَاحِبَكُمْ - بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ، قَالَ: ((فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ)) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْمٌ كُفَّارٌ. فَفَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ قَالَ سَهْلٌ: فَأَدْرَكْتُ نَاقَةً مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ، فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ، فَرَكَضَتْنِي بِرِجْلِهَا

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود دونوں خیبر آئے تو کھجوروں کے جھنڈ میں الگ الگ ہوگئے۔ عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے تو عبدالرحمن بن سہل اور مسعود کے بیٹے حویصہ اور محیصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے مقتول کے بارے میں بات کی۔ عبدالرحمن جو سب سے چھوٹے تھے، بات کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:’’بڑے کو بات کرنے دو۔‘‘ یحییٰ نے کہا کہ آپ کا مطلب تھا بڑا اٹھ کر بات کرے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مقتول کے متعلق بات کی تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم میں سے پچاس آدمی قسم دے کر اپنے مقتول کے خون بہا کے مستحق بن سکتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! وہ ایک ایسا معاملہ ہے جو ہم نے دیکھا نہیں (تو قسم کیسے دیں)آپ نے فرمایا:’’پھر یہودی پچاس قسمیں دے کر (کہ ہم نے قتل نہیں کیا)بری ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا:وہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار)پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنی طرف سے ادا فرما دی۔ حضرت سہل (بن ابی حثمہ)کہتے کہ میں ایک دفعہ ان کے اونٹوں کے باڑے میں داخل ہوا تو ان (دیت کے اونٹوں)میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔