Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 16 · Chapter 155

Praise

بَابُ يُحْثَى فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ

مدح سرائی کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈالنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

340

Al-Adab Al-Mufrad #340

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ، فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثِي فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ، وَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو معمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کسی امیر کی خوشامد کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس کے چہرے پر مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم خوشامد کرنے والوں کے مونہوں میں مٹی ڈالیں۔

341

Al-Adab Al-Mufrad #341

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَمْدَحُ رَجُلًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ يَحْثُو التُّرَابَ نَحْوَ فِيهِ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی کی (اس کے منہ)پر تعریف کر رہا تھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مٹی کا چلو بھر کر اس کے منہ پر پھینکنے لگے اور کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے مونہوں میں مٹی بھر دو۔‘‘

342

Al-Adab Al-Mufrad #342

Hasan

حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ مِحْجَنٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ رَجَاءٌ: أَقْبَلْتُ مَعَ مِحْجَنٍ ذَاتَ يَوْمٍ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى مَسْجِدِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَإِذَا بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ جَالِسٌ، قَالَ: وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: سُكْبَةُ، يُطِيلُ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ، وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ، فَقَالَ: يَا مِحْجَنُ أَتُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سُكْبَةُ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ مِحْجَنٌ، وَرَجَعَ، قَالَ: قَالَ مِحْجَنٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي حَتَّى صَعِدْنَا أُحُدًا، فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: ((وَيْلُ أُمِّهَا مِنْ قَرْيَةٍ، يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا كَأَعْمَرَ مَا تَكُونُ، يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا مَلَكًا، فَلَا يَدْخُلُهَا)) ثُمَّ انْحَدَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ، رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي، وَيَسْجُدُ، وَيَرْكَعُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ هَذَا؟)) فَأَخَذْتُ أُطْرِيهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا فُلَانٌ، وَهَذَا. فَقَالَ ((أَمْسِكْ، لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ)) قَالَ: فَانْطَلَقَ يَمْشِي، حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ حُجَرِهِ، لَكِنَّهُ نَفَضَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ)) ثَلَاثًا

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت رجاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن محجن اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل بصرہ کی مسجد میں آیا تو وہاں ایک دروازے پر سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے۔ رجاء کہتے ہیں کہ مسجد میں ایک آدمی تھا جسے سکبہ کہا جاتا تھا جو بہت لمبی نماز پڑھتا تھا۔ جب ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے تو حضرت بریدہ چادر اوڑھے تشریف فرما تھے اور ان کے مزاج میں مزاح اور دل لگی تھی، چنانچہ انہوں نے کہا:اے محجن! کیا تم سکبہ کی طرح نماز پڑھو گے؟ یہ سن کر حضرت محجن رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہ دیا اور واپس آگئے، پھر حضرت محجن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ احد پہاڑ پر چڑھ گئے۔ وہاں سے آپ کو مدینہ طیبہ نظر آیا تو آپ نے اس کی طرف رخ کرکے فرمایا:’’اس بستی کا برا حال ہوگا جب اس کے رہنے والے اسے اس وقت چھوڑ دیں گے جب یہ خوب آباد ہوگی اس کے پاس دجال آئے گا، وہ اس کے ہر دروازے پر ایک فرشتہ پائے گا، لہٰذا دجال اس میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ اس کے بعد آپ پہاڑ سے اتر آئے یہاں تک کہ جب ہم مسجد میں آگئے تو آپ نے ایک شخص کو دیکھا وہ نماز پڑھ رہا ہے اور رکوع سجدہ بھی کر رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:’’یہ کون ہے؟‘‘ میں خوب بڑھا چڑھا کر اس کی تعریف کرنے لگا۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہ فلاں ہے، فلاں ہے۔ آپ نے فرمایا:’’ٹھہر جا، اس کو نہ سناؤ ورنہ اسے ہلاک کر دو گے۔‘‘ اس کے بعد آپ چلتے رہے یہاں تک کہ حجروں کے پاس پہنچے تو آپ نے اپنے ہاتھ جھاڑے، پھر فرمایا:تمہارے دین کا سب سے بہتر عمل وہ ہے جو آسان تر ہو۔ تمہارے دین کا سب سے بہتر عمل وہ ہے جو آسان تر ہو۔‘‘ آپ نے تین بار فرمایا۔