Al-Adab Al-Mufrad #334
حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ، يَقُولُهُ مِرَارًا، إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسَبُ كَذَا وَكَذَا - إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ - وَحَسِيبُهُ اللَّهُ، وَلَا يُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا "
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر ہوا تو ایک دوسرے آدمی نے اس کی (مبالغہ آمیز)تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’افسوس ہے تجھے! تونے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔‘‘ آپ بار بار یہ بات دہراتے رہے (پھر فرمایا:)’’اگر کوئی ضرور کسی کی تعریف کرنا چاہتا ہے تو وہ یوں کہے:میرے خیال میں وہ ایسا ایسا ہے، اگر واقعی وہ اسے ایسا سمجھتا ہے تو (ان الفاظ میں تعریف کر دے)ساتھ یوں بھی کہے:صحیح علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ وہی حساب لینے والا ہے اور وہ اللہ کے مقابلے میں کسی کا تزکیہ نہ کرے۔‘‘