Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 14 · Chapter 139

Excellence in character

بَابُ الْبُخْلِ

بخل کی مذمت کا بیان

3 hadiths in this chapter

297

Al-Adab Al-Mufrad #297

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي سَلِمَةَ؟)) قُلْنَا: جُدُّ بْنُ قَيْسٍ، عَلَى أَنَّا نُبَخِّلُهُ، قَالَ: ((وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَى مِنَ الْبُخْلِ؟ بَلْ سَيِّدُكُمْ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ)) ، وَكَانَ عَمْرٌو عَلَى أَصْنَامِهِمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يُولِمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَزَوَّجَ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بنو سلمہ! تمہارا سردار کون ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا:جد بن قیس اگرچہ ہم اسے بخیل سمجھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:’بخل سے بڑی بھی کوئی بیماری ہے؟ بلکہ تمہارے سردار عمرو بن جموح ہیں۔‘‘ اور عمرو بن جموح زمانہ جاہلیت میں ان کے بتوں کے نگران تھے۔ بعد ازاں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم شادی کرتے تو وہ آپ کی طرف سے ولیمے کا انتظام کرتے تھے۔

298

Al-Adab Al-Mufrad #298

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَرَّادٌ كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَعَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، وَعَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے سیکرٹری وراد سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ بھیجو جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے لکھا:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیل و قال سے منع کرتے تھے، مال ضائع کرنے، کثرت سوال سے روکتے تھے، نیز خود روک لینے اورلوگوں سے خرچ کرنے کے مطالبے، ماؤں کی نافرمانی اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے سے بھی منع کرتے تھے۔

299

Al-Adab Al-Mufrad #299

Sahih

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَطُّ فَقَالَ: لَا

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز طلب کی گئی آپ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں نہیں دوں گا۔