Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 12 · Chapter 126

Cheerfulness towards people

بَابُ الضَّحِكِ

ہنسنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

252

Al-Adab Al-Mufrad #252

Hasan

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((أَقِلَّ الضَّحِكَ، فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہنسا کم کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔‘‘

253

Al-Adab Al-Mufrad #253

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُكْثِرُوا الضَّحِكَ، فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کثرت سے نہ ہنسا کرو کیونکہ کثرت سے ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔‘‘

254

Al-Adab Al-Mufrad #254

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُونَ وَيَتَحَدَّثُونَ، فَقَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا)) ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَبْكَى الْقَوْمَ، وَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: ((يَا مُحَمَّدُ، لِمَ تُقَنِّطُ عِبَادِي؟)) ، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَبْشِرُوا، وَسَدِّدُوا، وَقَارِبُوا))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے پاس تشریف لائے جو ہنس رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا:’’مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے تھوڑا اور روتے زیادہ۔‘‘ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور لوگوں کو رلا دیا اور اللہ عزوجل نے آپ کی طرف وحی کی:اے محمد! آپ میرے بندوں کو مایوس کیوں کرتے ہیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور فرمایا:’’خوش ہو جاؤ، استقامت اختیار کرو اور عمل کو صحیح کرنے کی کوشش کرو۔‘‘