Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 12 · Chapter 124

Cheerfulness towards people

بَابُ الِانْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ

لوگوں کے ساتھ ہنس مکھ چہرے کے ساتھ پیش آنا

4 hadiths in this chapter

246

Al-Adab Al-Mufrad #246

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ، قَالَ: فَقَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ، إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ [الأحزاب: 45] ، وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ تَعَالَى حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ، بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيَفْتَحُوا بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا تو ان سے عرض کیا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفات کے متعلق بتائیے جو تورات میں مذکور ہیں۔ انہوں نے کہا:ضرور! اللہ کی قسم آپ کی تورات میں کئی صفات ایسی ہیں جو قرآن میں بھی بعینہٖ مذکور ہیں (جیسے قرآن میں ہے:)’’اے نبی ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ اور ان پڑھوں کو (گمراہی سے)بچانے والا بناکر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور رسول ہو، میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ آپ سخت گو، تند مزاج اور بازاروں میں شور مچانے والے نہیں ہیں۔ اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ عفو و درگزر کرنے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس وقت تک فوت نہیں کرے گا جب تک آپ کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہ کردے اس طرح کہ وہ لوگ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیں۔ اور لوگ اس کے ذریعے سے اندھی آنکھیں، بہرے کان اور بند دل نہ کھول لیں۔

247

Al-Adab Al-Mufrad #247

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْقُرْآنِ ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ [الأحزاب: 45] فِي التَّوْرَاةِ نَحْوَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ قرآن کی یہ آیت:﴿یَا أیُّہَا النَّبِيُّ إِنَّا أرْسَلْنَاکَ شَاہِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِیرًا﴾ تورات میں بھی ہے.۔‘‘ (پہلی حدیث کی طرح ہے)

248

Al-Adab Al-Mufrad #248

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِهِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ - أَوْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ -: ((إِنَّكَ إِذَا اتَّبَعْتَ الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ)) فَإِنِّي لَا أَتَّبِعُ الرِّيبَةَ فِيهِمْ فَأُفْسِدَهُمْ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے فائدہ دیا، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا:’’جب تو لوگوں کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان کے عیب تلاش کرے گا تو ان کو خراب کر دے گا۔‘‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اس لیے میں لوگوں کے عیب تلاش کرکے انہیں خراب نہیں کرتا۔

249

Al-Adab Al-Mufrad #249

Zaeef

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعَ أُذُنَايَ هَاتَانِ، وَبَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا بِكَفَّيِّ الْحَسَنِ، أَوِ الْحُسَيْنِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا وَقَدَمَيهِ عَلَى قَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((ارْقَهْ)) ، قَالَ: فَرَقِيَ الْغُلَامُ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((افْتَحْ فَاكَ)) ، ثُمَّ قَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ: ((اللَّهُمَّ أَحِبَّهُ، فَإِنِّي أُحِبُّهُ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دونوں کانوں سے سنا اور دونوں آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے حضرت حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کے ہاتھوں کو پکڑا اور ان کے دونوں پاؤں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر تھے اور آپ فرما رہے تھے:’’چڑھ جا۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:پھر بچہ چڑھ گیا حتی کہ اس نے دونوں پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھ دیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اپنا منہ کھولو۔‘‘ پھر آپ نے اس کا بوسہ لیا، پھر فرمایا:’’اے اللہ تو بھی اس سے محبت فرما، کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔‘‘