Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 11 · Chapter 114

Good conduct

بَابُ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ

جو دنیا میں اچھے ہیں وہ آخرت میں بھی اچھے ہوں گے

3 hadiths in this chapter

221

Al-Adab Al-Mufrad #221

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي نُصَيْرُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ قَبِيصَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيُّ، عَنْ فُلَانٍ قَالَ: سَمِعْتُ بُرْمَةَ بْنَ لَيْثِ بْنِ بُرْمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ قَبِيصَةَ بْنَ بُرْمَةَ الْأَسَدِيَّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ((أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ))

اردو ترجمہ · Urdu

قبیصہ بن برمہ اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا:’’جو لوگ دنیا میں اہل معروف ہیں وہ آخرت میں بھی اہل معروف ہوں گے اور جو دنیا میں اہل منکر ہیں وہ آخرت میں بھی اہل منکر ہوں گے۔‘‘

222

Al-Adab Al-Mufrad #222

Zaeef

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَاصِمٍ - وَكَانَ حَرْمَلَةُ أَبَا أُمِّهِ - فَحَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ ابْنَةُ عُلَيْبَةَ، وَدُحَيْبَةُ ابْنَةُ عُلَيْبَةَ - وَكَانَ جَدَّهُمَا حَرْمَلَةُ أَبَا أَبِيهِمَا - أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ خَرَجَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ عِنْدَهُ حَتَّى عَرَفَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ قُلْتُ فِي نَفْسِي: وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَزْدَادَ مِنَ الْعِلْمِ، فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي أَعْمَلُ؟ قَالَ: ((يَا حَرْمَلَةُ، ائْتِ الْمَعْرُوفَ، وَاجْتَنَبِ الْمُنْكَرَ)) ، ثُمَّ رَجَعْتُ، حَتَّى جِئْتُ الرَّاحِلَةَ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى قُمْتُ مَقَامِي قَرِيبًا مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي أَعْمَلُ؟ قَالَ: ((يَا حَرْمَلَةُ، ائْتِ الْمَعْرُوفَ، وَاجْتَنَبِ الْمُنْكَرَ، وَانْظُرْ مَا يُعْجِبُ أُذُنَكَ أَنْ يَقُولَ لَكَ الْقَوْمُ إِذَا قُمْتَ مِنْ عِنْدِهِمْ فَأْتِهِ، وَانْظُرِ الَّذِي تَكْرَهُ أَنْ يَقُولَ لَكَ الْقَوْمُ إِذَا قُمْتَ مِنْ عِنْدِهِمْ فَاجْتَنِبْهُ)) ، فَلَمَّا رَجَعْتُ تَفَكَّرْتُ، فَإِذَا هُمَا لَمْ يَدَعَا شَيْئًا

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت حرملہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ گھر سے نکلے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ آپ سے جان پہچان ہوگئی، جب وہ واپس جانے لگے تو انہوں نے دل میں کہا:اللہ کی قسم میں اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کروں گا تاکہ علم میں اضافہ ہو۔ پھر میں پیدل چلا یہاں تک کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی:آپ مجھے کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:’’اے حرملہ نیک کام کرو اور گناہ سے بچو۔‘‘ پھر میں لوٹا اور اپنی سواری کے پاس آیا، پھر میں دوبارہ آپ کی طرف متوجہ ہوا اور آپ کے قریب جاکر عرض کی:اللہ کے رسول! آپ مجھے کس کام کا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:اے حرملہ نیک کام کرو اور گناہ سے بچو اور ایسا کام کرو جس کے بارے میں تم سمجھتے ہو کہ تم لوگوں کے پاس سے اٹھو گے تو وہ اس پر تمہاری پسند کا تبصرہ کریں گے۔ (یا جس پر تمہیں تعریف کی امید ہو)اور ایسے کام سے بچو جس کے بارے میں تم سمجھتے ہو کہ تمہارے اٹھنے کے بعد لوگ اس پر تمہاری ناپسند کا تبصرہ کریں گے۔‘‘ جب میں واپس آیا تو میں نے سوچا کہ ان دونوں نصیحتوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی (ہر خیر اور شر کے بارے میں بتا دیا)۔

223

Al-Adab Al-Mufrad #223

Sahih

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ: ذَكَرْتُ لِأَبِي حَدِيثَ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّهُ قَالَ: ((إِنَّ أَهْلَ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ)) ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي عُثْمَانَ يُحَدِّثُهُ، عَنْ سَلْمَانَ، فَعَرَفْتُ أَنَّ ذَاكَ كَذَاكَ، فَمَا حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا قَطُّ. حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

معتمر سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد سے ابوعثمان کی حدیث بیان کی کہ وہ سلمان سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:جو دنیا میں نیکوکار ہیں وہ آخرت میں بھی اہل معروف (نیکوکار)ہوں گے۔ میرے والد گرامی نے کہا:میں نے بھی ابو عثمان سے سنا وہ سلمان سے بیان کرتے تھے تو میں جان گیا کہ بس وہ ایسے ہی ہے تو میں نے یہ کبھی کسی کو بیان نہیں کی۔