Al-Adab Al-Mufrad #40
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: مَرَّ أَعْرَابِيٌّ فِي سَفَرٍ، فَكَانَ أَبُو الْأَعْرَابِيِّ صَدِيقًا لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: أَلَسْتَ ابْنَ فُلَانٍ؟ قَالَ: بَلَى، فَأَمَرَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ بِحِمَارٍ كَانَ يَسْتَعْقِبُ، وَنَزَعَ عِمَامَتَهُ عَنْ رَأْسِهِ فَأَعْطَاهُ. فَقَالَ بَعْضُ مَنْ مَعَهُ: أَمَا يَكْفِيهِ دِرْهَمَانِ؟ فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((احْفَظْ وُدَّ أَبِيكَ، لَا تَقْطَعْهُ فَيُطْفِئَ اللَّهُ نُورَكَ))
اردو ترجمہ · Urdu
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی کسی سفر میں (میرے)قریب سے گزرا۔ اس اعرابی کا باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا، تو اس نے اعرابی کو کہا: کیا تم فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر ابن عمر نے اسے (اس پہچان کی وجہ سے)ایک گدھا دینے کا حکم دیا۔ اور اپنے سر سے پگڑی اتار کر بھی اسے دے دی۔ آپ کے بعض ہم سفروں نے عرض کیا: اس کو دو درہم دے دینے کافی نہیں تھے؟ آپ نے فرمایا: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’اپنے والد کی دوستی کا خیال رکھو، اس کو مت توڑو ورنہ اللہ تمہارا نور بجھا دے گا۔‘‘